Sukhan AI
غزل

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

کوئی دن گر زندگانی اور ہے
مرزا غالب· Ghazal· 6 shers· radif: है

یہ غزل چھپے ہوئے غموں کی شدید دردناکی کو بیان کرتی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ان کا جلن جہنم کی آگ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ زندگی کے باقی دنوں کے لیے ایک نئے عزم کی بات کرتی ہے اور محبوب کے بدلے ہوئے رویے کو ظاہر کرتی ہے، جو ایک تحریری پیغام سے کہیں زیادہ گہرے، ان کہے پیغامات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कोई दिन गर ज़िंदगानी और है अपने जी में हम ने ठानी और है
اگر زندگی کے کچھ اور دن باقی ہیں، تو میں نے اپنے دل میں کچھ اور ہی ٹھان لیا ہے۔
2
आतिश-ए-दोज़ख़ में ये गर्मी कहाँ सोज़-ए-ग़म-हा-ए-निहानी और है
دوزخ کی آگ میں ایسی گرمی کہاں؛ چھپے ہوئے غموں کا جلنا کچھ اور ہی ہوتا ہے۔
3
बार-हा देखी हैं उन की रंजिशें पर कुछ अब के सरगिरानी और है
میں نے ان کی ناراضگیاں بارہا دیکھی ہیں، مگر اس بار ان کی سرگرانی (اکڑ) کچھ مختلف ہے۔
4
दे के ख़त मुँह देखता है नामा-बर कुछ तो पैग़ाम-ए-ज़बानी और है
خط دینے کے بعد نامہ بر میرا چہرہ دیکھ رہا ہے؛ یقیناً کوئی اور زبانی پیغام بھی ہے۔
5
क़ाता-ए-एमार है अक्सर नुजूम वो बला-ए-आसमानी और है
ستارے اکثر زندگی کی مدت کو کم کر دیتے ہیں، لیکن وہ آسمانی بلا کچھ اور ہی ہے۔
6
हो चुकीं 'ग़ालिब' बलाएँ सब तमाम एक मर्ग-ए-ना-गहानी और है
غالب، تمام بلائیں اب ختم ہو چکی ہیں۔ صرف ایک ناگہانی موت باقی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

کوئی دن گر زندگانی اور ہے | Sukhan AI