सफ़ीना जब कि किनारे पे आ लगा 'ग़ालिब'
ख़ुदा से क्या सितम-ओ-जौर-ए-ना-ख़ुदा कहिए
“Now that the boat has finally reached the shore, Ghalib, What oppression and cruelty of the helmsman should one complain to God about?”
— مرزا غالب
معنی
غالب، جب سفینہ کنارے پر آ ہی لگا ہے، تو ناخدا کے ظلم اور ستم کی شکایت خدا سے کیا کریں؟ اس شعر کا مطلب ہے کہ جب منزل مل جائے تو رہنما کی پچھلی زیادتیوں کی شکایت کرنا بے سود ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
← Prev11 / 11
