Sukhan AI
غزل

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: क्या

یہ غزل دستبرداری اور انسانی حالت کے موضوعات کو چھوتی ہے۔ یہ ماضی کے مظالم سے باز آنے پر غور کرتی ہے مگر سوال کرتی ہے کہ اور کیا چھوڑا جائے؛ تشویش کے باوجود تقدیر کی ناگزیرت پر زور دیتی ہے؛ اور جہاں سچی لگن نہ ہو وہاں دھوکا کھانے کی بے سودگی پر روشنی ڈالتی ہے۔ اشعار فلسفیانہ قبولیت، ذاتی سوالات اور محبت کے مخمصوں کا امتزاج پیش کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जौर से बाज़ आए पर बाज़ आएँ क्या कहते हैं हम तुझ को मुँह दिखलाएँ क्या
ہم نے ظلم کرنا چھوڑ دیا ہے، پر اب اور کیا ترک کریں؟ ہم شرمندگی محسوس کرتے ہوئے سوچتے ہیں کہ اب تمہیں اپنا منہ کیسے دکھائیں۔
2
रात दिन गर्दिश में हैं सात आसमाँ हो रहेगा कुछ कुछ घबराएँ क्या
رات دن ساتوں آسمان گردش میں ہیں۔ کچھ نہ کچھ تو ہو کر رہے گا؛ پھر ہم کیوں گھبرائیں؟
3
लाग हो तो उस को हम समझें लगाव जब हो कुछ भी तो धोका खाएँ क्या
اگر کوئی تعلق یا لگاؤ ہو تو ہم اسے اپنا پن سمجھیں گے۔ جب کچھ بھی نہ ہو، تو بھلا دھوکا کیسے کھا سکتے ہیں؟
4
हो लिए क्यूँ नामा-बर के साथ साथ या रब अपने ख़त को हम पहुँचाएँ क्या
شاعر پوچھتا ہے کہ آپ قاصد کے ساتھ کیوں چلے گئے۔ اے رب، جب آپ پہلے ہی اس کے ساتھ ہیں، تو ہم اپنا خط کیسے پہنچائیں گے۔
5
मौज-ए-ख़ूँ सर से गुज़र ही क्यूँ जाए आस्तान-ए-यार से उठ जाएँ क्या
خون کی موج سر سے بھلے ہی گزر جائے، میں محبوب کی دہلیز سے کیوں اٹھوں؟ یہ شدید خطرے کے باوجود غیر متزلزل عقیدت کا اظہار ہے۔
6
उम्र भर देखा किया मरने की राह मर गए पर देखिए दिखलाएँ क्या
عمر بھر میں نے مرنے کی راہ دیکھی۔ اب جب میں مر گیا ہوں، تو دیکھیں کہ یہ کیا دکھاتا ہے۔
7
पूछते हैं वो कि 'ग़ालिब' कौन है कोई बतलाओ कि हम बतलाएँ क्या
وہ پوچھتے ہیں کہ 'غالب' کون ہے۔ کوئی اور بتائے، کیونکہ میں بھلا کیا سمجھاؤں؟
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.