غزل
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
یہ غزل ایک عاشق کی شدید اور اکثر مایوس کن آرزو کو بیان کرتی ہے۔ عاشق محبت نہ ملنے پر وحشت (پاگل پن) کو بھی قبول کرنے پر آمادہ ہے، اور محبوب سے کسی بھی طرح کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے دشمنی یا خلوت میں بھی سکون پاتا ہے۔ یہ مکمل علیحدگی کے بجائے کسی بھی رشتے کو، چاہے وہ منفی ہی کیوں نہ ہو، برقرار رکھنے کی ایک دردناک اپیل ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
इश्क़ मुझ को नहीं वहशत ही सही
मेरी वहशत तिरी शोहरत ही सही
اگر عشق میرے نصیب میں نہیں، تو دیوانگی ہی سہی؛ اور اگر میری دیوانگی تیری شہرت بن جائے، تو وہی سہی۔
2
क़त्अ कीजे न तअल्लुक़ हम से
कुछ नहीं है तो अदावत ही सही
ہم سے اپنے تعلقات نہ توڑیں۔ اگر اور کچھ نہیں ہے تو دشمنی ہی سہی۔
3
मेरे होने में है क्या रुस्वाई
ऐ वो मज्लिस नहीं ख़ल्वत ही सही
میرے ہونے میں کیا رسوائی ہے؟ اگر وہ مجلس نہیں ہے تو خلوت ہی صحیح ہے۔
4
हम भी दुश्मन तो नहीं हैं अपने
ग़ैर को तुझ से मोहब्बत ही सही
ہم اپنے دشمن تو نہیں ہیں؛ اگر دوسروں کو تم سے محبت ہے، تو ہو، پر ہم بھی اپنے مفاد دیکھتے ہیں۔
5
अपनी हस्ती ही से हो जो कुछ हो
आगही गर नहीं ग़फ़लत ही सही
جو کچھ بھی ہو، وہ میری اپنی ہستی سے ہی ہو؛ اگر آگہی نہیں، تو غفلت ہی صحیح۔ یہ اپنی موجودگی سے ہی سب کچھ قبول کرنے کا احساس ہے۔
6
उम्र हर-चंद कि है बर्क़-ए-ख़िराम
दिल के ख़ूँ करने की फ़ुर्सत ही सही
عمر اگرچہ بجلی کی رفتار کی طرح بہت تیز اور فانی ہے، پھر بھی اس میں دل کو لہولہان کرنے یا گہرا غم سہنے کے لیے کافی وقت مل ہی جاتا ہے۔
7
हम कोई तर्क-ए-वफ़ा करते हैं
न सही इश्क़ मुसीबत ही सही
ہم کبھی وفا ترک نہیں کرتے۔ اگر یہ عشق نہیں ہے تو مصیبت ہی سہی۔
8
कुछ तो दे ऐ फ़लक-ए-ना-इंसाफ़
आह ओ फ़रियाद की रुख़्सत ही सही
اے ناانصاف آسمان، کچھ تو عطا کر، چاہے وہ صرف آہ بھرنے اور فریاد کرنے کی اجازت ہی ہو۔
9
हम भी तस्लीम की ख़ू डालेंगे
बे-नियाज़ी तिरी आदत ही सही
ہم بھی تسلیم کی خو اپنائیں گے، اگرچہ بے نیازی تمہاری عادت ہے۔
10
यार से छेड़ चली जाए 'असद'
गर नहीं वस्ल तो हसरत ही सही
اسد، محبوب سے چھیڑ چھاڑ جاری رہے۔ اگر وصل ممکن نہیں ہے تو صرف یہ حسرت ہی کافی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
