पैदा करें दिमाग़-ए-तमाशा-ए-सर्व-ओ-गुल
हसरत-कशों को साग़र-ओ-मीना न चाहिए
“Let the mind conceive the spectacle of cypress and rose, For those consumed by longing, no goblet or flask it bestows.”
— مرزا غالب
معنی
حسرت سے لبریز لوگوں کو ساغر و مینا کی ضرورت نہیں ہے؛ انہیں چاہیے کہ اپنے ذہن میں سر و گل کے حسین نظارے پیدا کریں۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
