है अब इस मामूरे में क़हत-ए-ग़म-ए-उल्फ़त 'असद'
हम ने ये माना कि दिल्ली में रहें खावेंगे क्या
“In this inhabited world, 'Asad', a famine of love's grief now holds,We've consented to live in Delhi, but what sustenance unfolds?”
— مرزا غالب
معنی
اے 'اسد'، اب اس آباد دنیا میں غمِ اُلفت کی شدید کمی (قحط) ہے۔ ہم نے یہ تو مان لیا کہ ہم دلی میں رہیں گے، مگر وہاں کھائیں گے کیا؟
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev7 / 7
