“Just as the river met its ocean-lord,So the groom and bride's hands were conjoined.”
جیسے دریا اپنے مالک، سمندر سے ملتا ہے، ویسے ہی دولہا اور دلہن کے ہاتھ جوڑ دیے گئے۔
یہ شعر شادی کے مقدس بندھن کو دریا اور سمندر کے حسین ملاپ سے تشبیہ دیتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جیسے دریا اپنے آقا، یعنی سمندر سے ملتا ہے، اسی طرح دولہا اور دلہن کے ہاتھ آپس میں جوڑے جاتے ہیں۔ یہ صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو روحوں کا ایک ہونا ہے، جیسے دو الگ دھاراؤں کا ایک وسیع سمندر میں مل کر امر ہو جانا۔ یہ ایک نئے سفر کی ابتدا اور ابدی محبت کی علامت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
