غزل
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن، شوخی اور عاشقانہ چھیڑ چھاڑ کی ایک دلکش عکاسی ہے، جس میں شاعر اپنے محبوب کو حور کا پیکر قرار دیتے ہوئے اس پر جان نچھاور کرتا ہے۔ اس میں عاشق کے سچے جذبات اور معشوق کے ناز و انداز کو نہایت لطافت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
कहते हैं जिस को हूर वो इंसाँ तुम्हीं तो हो
जाती है जिस पे जान मिरी जाँ तुम्हीं तो हो
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
جاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو
2
मतलब की कह रहे हैं वो दाना हमीं तो हैं
मतलब की पूछते हो वो नादाँ तुम्हीं तो हो
مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیں
مطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو
3
आता है बाद-ए-ज़ुल्म तुम्हीं को तो रहम भी
अपने किए से दिल में पशेमाँ तुम्हीं तो हो
آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھی
اپنے کیے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو
4
पछताओगे बहुत मिरे दिल को उजाड़ कर
इस घर में और कौन है मेहमाँ तुम्हीं तो हो
پچھتاؤ گے بہت مرے دل کو اجاڑ کر
اس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو
5
इक रोज़ रंग लाएँगी ये मेहरबानियाँ
हम जानते थे जान के ख़्वाहाँ तुम्हीं तो हो
اک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاں
ہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو
6
दिलदार ओ दिल-फ़रेब दिल-आज़ार ओ दिल-सिताँ
लाखों में हम कहेंगे कि हाँ हाँ तुम्हीं तो हो
دل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاں
لاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو
7
करते हो 'दाग़' दूर से बुत-ख़ाने को सलाम
अपनी तरह के एक मुसलमाँ तुम्हीं तो हो
کرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلام
اپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
