غزل

جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں

جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
داغ دہلوی· Ghazal· 10 shers· radif: के हैं

یہ غزل کائنات میں محبوب کے ہمہ گیر جلووں اور باطن کے ناگفتہ بہ درد کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ محبوب کے جلوے نگاہِ بینا سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے، جبکہ دل میں پنپنے والے عشق کے راز اور سوزِ نہاں خاموشی کے کرب میں دبے ہوئے ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
जल्वे मिरी निगाह में कौन-ओ-मकाँ के हैं मुझ से कहाँ छुपेंगे वो ऐसे कहाँ के हैं
جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
2
खुलते नहीं हैं राज़ जो सोज़-ए-निहाँ के हैं क्या फूटने के वास्ते छाले ज़बाँ के हैं
کھلتے نہیں ہیں راز جو سوز نہاں کے ہیں کیا پھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں
3
करते हैं क़त्ल वो तलब-ए-मग़फ़िरत के बाद जो थे दुआ के हाथ वही इम्तिहाँ के हैं
کرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعد جو تھے دعا کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں
4
जिस रोज़ कुछ शरीक हुई मेरी मुश्त-ए-ख़ाक उस रोज़ से ज़मीं पे सितम आसमाँ के हैं
جس روز کچھ شریک ہوئی میری مشت خاک اس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں
5
बाज़ू दिखाए तुम ने लगा कर हज़ार हाथ पूरे पड़े तो वो भी बहुत इम्तिहाँ के हैं
بازو دکھائے تم نے لگا کر ہزار ہاتھ پورے پڑے تو وہ بھی بہت امتحاں کے ہیں
6
नासेह के सामने कभी सच बोलता नहीं मेरी ज़बाँ में रंग तुम्हारी ज़बाँ के हैं
ناصح کے سامنے کبھی سچ بولتا نہیں میری زباں میں رنگ تمہاری زباں کے ہیں
7
कैसा जवाब हज़रत-ए-दिल देखिए ज़रा पैग़ाम-बर के हाथ में टुकड़े ज़बाँ के हैं
کیسا جواب حضرت دل دیکھیے ذرا پیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں
8
क्या इज़्तिराब-ए-शौक़ ने मुझ को ख़जिल किया वो पूछते हैं कहिए इरादे कहाँ के हैं
کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا وہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں
9
आशिक़ तिरे अदम को गए किस क़दर तबाह पूछा हर एक ने ये मुसाफ़िर कहाँ के हैं
عاشق ترے عدم کو گئے کس قدر تباہ پوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں
10
हर-चंद 'दाग़' एक ही अय्यार है मगर दुश्मन भी तो छटे हुए सारे जहाँ के हैं
ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگر دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.