غزل

غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا

غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
داغ دہلوی· Ghazal· 13 shers· radif: के देख लिया

اس غزل میں داغؔ دہلوی نے عشق میں ملنے والی مایوسی اور دل کی نادانیوں کے نتیجے میں ہونے والے پچھتاوے کو بیان کیا ہے۔ شاعر نے ہر تجربے اور آزمائش سے گزر کر بالآخر محبوب کی بے وفائی اور جذباتی محرومی کا تلخ احساس ہی پایا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ग़ैर को मुँह लगा के देख लिया झूट सच आज़मा के देख लिया
غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا
2
उन के घर 'दाग़' जा के देख लिया दिल के कहने में आ के देख लिया
ان کے گھر داغؔ جا کے دیکھ لیا دل کے کہنے میں آ کے دیکھ لیا
3
कितनी फ़रहत-फ़ज़ा थी बू-ए-वफ़ा उस ने दिल को जला के देख लिया
کتنی فرحت فزا تھی بوئے وفا اس نے دل کو جلا کے دیکھ لیا
4
कभी ग़श में रहा शब-ए-वा'दा कभी गर्दन उठा के देख लिया
کبھی غش میں رہا شب وعدہ کبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا
5
जिंस-ए-दिल है ये वो नहीं सौदा हर जगह से मँगा के देख लिया
جنس دل ہے یہ وہ نہیں سودا ہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا
6
लोग कहते हैं चुप लगी है तुझे हाल-ए-दिल भी सुना के देख लिया
لوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھے حال دل بھی سنا کے دیکھ لیا
7
जाओ भी क्या करोगे मेहर-ओ-वफ़ा बार-हा आज़मा के देख लिया
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا بارہا آزما کے دیکھ لیا
8
ज़ख़्म-ए-दिल में नहीं है क़तरा-ए-ख़ूँ ख़ूब हम ने दिखा के देख लिया
زخم دل میں نہیں ہے قطرۂ خوں خوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا
9
इधर आईना है उधर दिल है जिस को चाहा उठा के देख लिया
ادھر آئینہ ہے ادھر دل ہے جس کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا
10
उन को ख़ल्वत-सरा में बे-पर्दा साफ़ मैदान पा के देख लिया
ان کو خلوت سرا میں بے پردہ صاف میدان پا کے دیکھ لیا
11
उस ने सुब्ह-ए-शब-ए-विसाल मुझे जाते जाते भी आ के देख लिया
اس نے صبح شب وصال مجھے جاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا
12
तुम को है वस्ल-ए-ग़ैर से इंकार और जो हम ने आ के देख लिया
تم کو ہے وصل غیر سے انکار اور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا
13
'दाग़' ने ख़ूब आशिक़ी का मज़ा जल के देखा जला के देख लिया
داغؔ نے خوب عاشقی کا مزا جل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.