غزل

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
داغ دہلوی· Ghazal· 14 shers· radif: भी होते हैं

یہ غزل زندگی کے اس اٹل فلسفے کو اجاگر کرتی ہے کہ جہاں خوشی اور عیش ہے وہاں غم اور ماتم کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ محبت میں باہمی شکوے ترک کرنے اور دونوں طرف پائی جانے والی یکساں بے چینی و اضطراب کو بڑی نزاکت سے پیش کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
फ़लक देता है जिन को ऐश उन को ग़म भी होते हैं जहाँ बजते हैं नक़्क़ारे वहीं मातम भी होते हैं
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں جہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں
2
गिले शिकवे कहाँ तक होंगे आधी रात तो गुज़री परेशाँ तुम भी होते हो परेशाँ हम भी होते हैं
گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزری پریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں
3
जो रक्खे चारागर काफ़ूर दूनी आग लग जाए कहीं ये ज़ख़्म-ए-दिल शर्मिंदा-ए-मरहम भी होते हैं
جو رکھے چارہ گر کافور دونی آگ لگ جائے کہیں یہ زخم دل شرمندہ مرہم بھی ہوتے ہیں
4
वो आँखें सामरी-फ़न हैं वो लब ईसा-नफ़स देखो मुझी पर सेहर होते हैं मुझी पर दम भी होते हैं
وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھو مجھی پر سحر ہوتے ہیں مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں
5
ज़माना दोस्ती पर इन हसीनों की न इतराए ये आलम-दोस्त अक्सर दुश्मन-ए-आलम भी होते हैं
زمانہ دوستی پر ان حسینوں کی نہ اترائے یہ عالم دوست اکثر دشمن عالم بھی ہوتے ہیں
6
ब-ज़ाहिर रहनुमा हैं और दिल में बद-गुमानी है तिरे कूचे में जो जाता है आगे हम भी होते हैं
بظاہر رہنما ہیں اور دل میں بدگمانی ہے ترے کوچے میں جو جاتا ہے آگے ہم بھی ہوتے ہیں
7
हमारे आँसुओं की आबदारी और ही कुछ है कि यूँ होने को रौशन गौहर-ए-शबनम भी होते हैं
ہمارے آنسوؤں کی آبداری اور ہی کچھ ہے کہ یوں ہونے کو روشن گوہر شبنم بھی ہوتے ہیں
8
ख़ुदा के घर में क्या है काम ज़ाहिद बादा-ख़्वारों का जिन्हें मिलती नहीं वो तिश्ना-ए-ज़मज़म भी होते हैं
خدا کے گھر میں کیا ہے کام زاہد بادہ خواروں کا جنہیں ملتی نہیں وہ تشنۂ زمزم بھی ہوتے ہیں
9
हमारे साथ ही पैदा हुआ है इश्क़ ऐ नासेह जुदाई किस तरह से हो जुदा तवाम भी होते हैं
ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے عشق اے ناصح جدائی کس طرح سے ہو جدا توام بھی ہوتے ہیں
10
नहीं घटती शब-ए-फ़ुर्क़त भी अक्सर हम ने देखा है जो बढ़ जाते हैं हद से वो ही घट कर कम भी होते हैं
نہیں گھٹتی شب فرقت بھی اکثر ہم نے دیکھا ہے جو بڑھ جاتے ہیں حد سے وہ ہی گھٹ کر کم بھی ہوتے ہیں
11
बचाऊँ पैरहन क्या चारागर मैं दस्त-ए-वहशत से कहीं ऐसे गरेबाँ दामन-ए-मरयम भी होते हैं
بچاؤں پیرہن کیا چارہ گر میں دست وحشت سے کہیں ایسے گریباں دامن مریم بھی ہوتے ہیں
12
तबीअत की कजी हरगिज़ मिटाए से नहीं मिटती कभी सीधे तुम्हारे गेसू-ए-पुर-ख़म भी होते हैं
طبیعت کی کجی ہرگز مٹائے سے نہیں مٹتی کبھی سیدھے تمہارے گیسوئے پر خم بھی ہوتے ہیں
13
जो कहता हूँ कि मरता हूँ तो फ़रमाते हैं मर जाओ जो ग़श आता है तो मुझ पर हज़ारों दम भी होते हैं
جو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں مر جاؤ جو غش آتا ہے تو مجھ پر ہزاروں دم بھی ہوتے ہیں
14
किसी का वादा-ए-दीदार तो ऐ 'दाग़' बर-हक़ है मगर ये देखिए दिल-शाद उस दिन हम भी होते हैं
کسی کا وعدۂ دیدار تو اے داغؔ برحق ہے مگر یہ دیکھیے دل شاد اس دن ہم بھی ہوتے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.