غزل
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
یہ غزل عشق میں دل کے لٹنے اور فراق کے غم کو ایک شوخ، بے پروا اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے ہاتھوں دل کے جانے اور جدائی کی تکلیف کو تسلیم کرتے ہوئے تسلیم و رضا کی ایک لطیف کیفیت بیان کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
दिल गया तुम ने लिया हम क्या करें
जाने वाली चीज़ का ग़म क्या करें
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
جانے والی چیز کا غم کیا کریں
2
हम ने मर कर हिज्र में पाई शिफ़ा
ऐसे अच्छों का वो मातम क्या करें
ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفا
ایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں
3
अपने ही ग़म से नहीं मिलती नजात
इस बिना पर फ़िक्र-ए-आलम क्या करें
اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات
اس بنا پر فکر عالم کیا کریں
4
एक साग़र पर है अपनी ज़िंदगी
रफ़्ता रफ़्ता इस से भी कम क्या करें
ایک ساغر پر ہے اپنی زندگی
رفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں
5
कर चुके सब अपनी अपनी हिकमतें
दम निकलता हो तो हमदम क्या करें
کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیں
دم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں
6
दिल ने सीखा शेवा-ए-बेगानगी
ऐसे ना-महरम को महरम क्या करें
دل نے سیکھا شیوۂ بیگانگی
ایسے نامحرم کو محرم کیا کریں
7
मा'रका है आज हुस्न ओ इश्क़ का
देखिए वो क्या करें हम क्या करें
معرکہ ہے آج حسن و عشق کا
دیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں
8
आईना है और वो हैं देखिए
फ़ैसला दोनों ये बाहम क्या करें
آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیے
فیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں
9
आदमी होना बहुत दुश्वार है
फिर फ़रिश्ते हिर्स-ए-आदम क्या करें
آدمی ہونا بہت دشوار ہے
پھر فرشتے حرص آدم کیا کریں
10
तुंद-ख़ू है कब सुने वो दिल की बात
और भी बरहम को बरहम क्या करें
تند خو ہے کب سنے وہ دل کی بات
اور بھی برہم کو برہم کیا کریں
11
हैदराबाद और लंगर याद है
अब के दिल्ली में मोहर्रम क्या करें
حیدرآباد اور لنگر یاد ہے
اب کے دلی میں محرم کیا کریں
12
कहते हैं अहल-ए-सिफ़ारिश मुझ से 'दाग़'
तेरी क़िस्मत है बुरी हम क्या करें
کہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔ
تیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
