غزل

دل ناکام کے ہیں کام خراب

دل ناکام کے ہیں کام خراب
داغ دہلوی· Ghazal· 9 shers· radif: ख़राब

یہ غزل عشق میں دلِ ناکام کی بدحالی، رسوائی اور بربادی کے احوال کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے رندانہ انداز میں واضح کیا ہے کہ اس کوچۂ عشق و خرابات کا اصل لطف ہی ہمیشہ خراب اور بے خود رہنے میں ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
दिल-ए-नाकाम के हैं काम ख़राब कर लिया आशिक़ी में नाम ख़राब
دل ناکام کے ہیں کام خراب کر لیا عاشقی میں نام خراب
2
इस ख़राबात का यही है मज़ा कि रहे आदमी मुदाम ख़राब
اس خرابات کا یہی ہے مزہ کہ رہے آدمی مدام خراب
3
देख कर जिंस-ए-दिल वो कहते हैं क्यूँ करे कोई अपने दाम ख़राब
دیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیں کیوں کرے کوئی اپنے دام خراب
4
अब्र-ए-तर से सबा ही अच्छी थी मेरी मिट्टी हुई तमाम ख़राब
ابر تر سے صبا ہی اچھی تھی میری مٹی ہوئی تمام خراب
5
वो भी साक़ी मुझे नहीं देता वो जो टूटा पड़ा है जाम ख़राब
وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتا وہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب
6
क्या मिला हम को ज़िंदगी के सिवा वो भी दुश्वार ना-तमाम ख़राब
کیا ملا ہم کو زندگی کے سوا وہ بھی دشوار ناتمام خراب
7
वाह क्या मुँह से फूल झड़ते हैं ख़ूब-रू हो के ये कलाम ख़राब
واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیں خوب رو ہو کے یہ کلام خراب
8
चाल की रहनुमा-ए-इश्क़ ने भी वो दिखाया जो था मक़ाम ख़राब
چال کی رہنمائے عشق نے بھی وہ دکھایا جو تھا مقام خراب
9
'दाग़' है बद-चलन तो होने दो सौ में होता है इक ग़ुलाम ख़राब
داغؔ ہے بد چلن تو ہونے دو سو میں ہوتا ہے اک غلام خراب
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.