غزل
دل ناکام کے ہیں کام خراب
دل ناکام کے ہیں کام خراب
یہ غزل عشق میں دلِ ناکام کی بدحالی، رسوائی اور بربادی کے احوال کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے رندانہ انداز میں واضح کیا ہے کہ اس کوچۂ عشق و خرابات کا اصل لطف ہی ہمیشہ خراب اور بے خود رہنے میں ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
दिल-ए-नाकाम के हैं काम ख़राब
कर लिया आशिक़ी में नाम ख़राब
دل ناکام کے ہیں کام خراب
کر لیا عاشقی میں نام خراب
2
इस ख़राबात का यही है मज़ा
कि रहे आदमी मुदाम ख़राब
اس خرابات کا یہی ہے مزہ
کہ رہے آدمی مدام خراب
3
देख कर जिंस-ए-दिल वो कहते हैं
क्यूँ करे कोई अपने दाम ख़राब
دیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیں
کیوں کرے کوئی اپنے دام خراب
4
अब्र-ए-तर से सबा ही अच्छी थी
मेरी मिट्टी हुई तमाम ख़राब
ابر تر سے صبا ہی اچھی تھی
میری مٹی ہوئی تمام خراب
5
वो भी साक़ी मुझे नहीं देता
वो जो टूटा पड़ा है जाम ख़राब
وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتا
وہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب
6
क्या मिला हम को ज़िंदगी के सिवा
वो भी दुश्वार ना-तमाम ख़राब
کیا ملا ہم کو زندگی کے سوا
وہ بھی دشوار ناتمام خراب
7
वाह क्या मुँह से फूल झड़ते हैं
ख़ूब-रू हो के ये कलाम ख़राब
واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیں
خوب رو ہو کے یہ کلام خراب
8
चाल की रहनुमा-ए-इश्क़ ने भी
वो दिखाया जो था मक़ाम ख़राब
چال کی رہنمائے عشق نے بھی
وہ دکھایا جو تھا مقام خراب
9
'दाग़' है बद-चलन तो होने दो
सौ में होता है इक ग़ुलाम ख़राब
داغؔ ہے بد چلن تو ہونے دو
سو میں ہوتا ہے اک غلام خراب
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
