“Brows tightly knit, a dagger in hand, they sit upright and proud; with whom did they fall out today, that they sit so haughtily adorned?”
ان کی بھنویں تنی ہوئی ہیں، ہاتھ میں خنجر ہے اور وہ تن کر بیٹھے ہیں۔ لگتا ہے آج کسی سے ان کی بگڑ گئی ہے کہ وہ اس طرح بن سنور کر اور تیور بدل کر بیٹھے ہیں۔
اس شعر میں محبوب کے روٹھنے اور غصے کے دلکش انداز کو کمال نزاکت سے دکھایا گیا ہے۔ تنی ہوئی بھنویں، ہاتھ میں خنجر اور اکڑ کر بیٹھنا—شاعر شرارت سے پوچھتا ہے کہ نجانے آج کس سے بگڑی ہے جو وہ اس سج دھج اور تیور کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ یہاں 'بگڑنے' اور 'بننے' کا تضاد یہ بتاتا ہے کہ محبوب کا غصہ اور جلال بھی دراصل اس کے حسن کی ایک دلربا ادا بن گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
