باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا افسانہ عاشقوں کا فقط یاد رہ گیا

“Neither Qais nor Farhad remains within this world; only the legend of the lovers lingers in memory.”

— داغ دہلوی
معنی

اس دنیا میں نہ تو قیس باقی رہا اور نہ ہی فرہاد، اب صرف ان عاشقوں کا قصہ ہی یادوں میں باقی رہ گیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر قیس (مجنوں) اور فرہاد جیسے عظیم عاشقوں کا حوالہ دے کر انسانی زندگی کی ناپائیداری کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ محبت نبھانے والے وجود تو خاک میں مل گئے، مگر ان کا جذبہ اور جنون داستان بن کر آج بھی زندہ ہے۔ یہ شعر بڑی خوبصورتی سے یاد دلاتا ہے کہ انسان بھلے ہی فنا ہو جائے، مگر سچی محبت کی خوشبو زمانوں کے دلوں میں ہمیشہ باقی رہتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 13Next →