غزل
مکے گیاں گل مکدی ناہیں
مکے گیاں گل مکدی ناہیں
یہ غزل بتاتی ہے کہ مکہ سے گئی بات کا راز ہوا کے جھونکے سے بھی نہیں کھل سکتا۔ یہ قصہ بیان کرتا ہے کہ چاہے بات کو کتنی بھی پھیلایا جائے، اس کا اصل مطلب نہیں معلوم ہو گا۔ یہ بلھے شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے ختم ہوتی ہے کہ جب دل کو محبت میں دے دیا جاتا ہے، تو اس بات کا راز ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
مکے گیاں گل مکدی ناہیں
بھاویں سو سو جمعے پڑھ آئیے
مکہ جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، بھلے ہی سینکڑوں دعائیں کی جائیں۔
2
گنگا گیاں گل مکدی ناہیں
بھاویں سو سو غوطے کھائیے
گنگا کا گیان کوئی کہانی نہیں ہے، یہ ایک میٹھا، دلکش تجربہ ہے جسے چکھا جائے۔
3
گیا گیاں گل مکدی ناہیں
بھاویں سو سو پنڈ پڑھائیے
دنیا کے طریقے باغ جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ہوا سے اڑنے والی دھول جیسے ہوتے ہیں۔
4
بلھے شاہ گل تائیوں مکدی
جدوں میں نوں دلوں گوائیے
بلھے شاہ، جب تم راستہ دکھاتے ہو، جب ہمیں مئی کا نظارہ دیتے ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
