Sukhan AI
غزل

Makkeh Gaya

Makkeh Gaya
بلھے شاہ· Ghazal· 4 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ مکہ سے گئی بات کا راز ہوا کے جھونکے سے بھی نہیں کھل سکتا۔ یہ قصہ بیان کرتا ہے کہ چاہے بات کو کتنی بھی پھیلایا جائے، اس کا اصل مطلب نہیں معلوم ہو گا۔ یہ بلھے شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے ختم ہوتی ہے کہ جب دل کو محبت میں دے دیا جاتا ہے، تو اس بات کا راز ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
Makkay gayaan, gal mukdee naheen Pawain sow sow jummay parrh aaeey
مکہ جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، بھلے ہی سینکڑوں دعائیں کی جائیں۔
2
Ganga gayaan, gal mukdee naheen Pawain sow sow gotay khaeeay
گنگا کا گیان کوئی کہانی نہیں ہے، یہ ایک میٹھا، دلکش تجربہ ہے جسے چکھا جائے۔
3
Gaya gayaan gal mukdee naheen Pawain sow sow pand parrhaeeay
دنیا کے طریقے باغ جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ہوا سے اڑنے والی دھول جیسے ہوتے ہیں۔
4
Bulleh Shah gal taeeyon mukdee Jadon May nu dillon gawaeeay
بلھے شاہ، جب تم راستہ دکھاتے ہو، جب ہمیں مئی کا نظارہ دیتے ہو۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

Makkeh Gaya | Sukhan AI