“This is no tale for a storyteller to unfold; hear the story of my sorrow from my own lips told.”
یہ کوئی ایسا قصہ نہیں جسے تم کسی قصہ گو سے سنو، بلکہ میرے دکھ کی داستان خود میری ہی زبانی سنو۔
شاعر یہاں روایتی داستان گوئی اور دل پر بیتی سچی واردات کے فرق کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا دکھ کوئی ایسا فرضی قصہ نہیں جو محفلوں میں تفریح کے لیے سنایا جائے، بلکہ یہ دل کا وہ اصل زخم ہے جسے صرف سہنے والا ہی محسوس کرا سکتا ہے۔ اس لیے وہ مخاطب سے چاہتے ہیں کہ اس درد کی تپش کو کسی تیسرے شخص کے بجائے خود ان کی اپنی سچی آواز سے سنا جائے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
