غزل
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
یہ غزل زندگی کے تغیر اور ناپائیداری کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نہ غم کو دوام حاصل ہے اور نہ خوشی کو بقا۔ شاعر نے جنون، وحشت اور انسانی کیفیات کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
न दाइम ग़म है ने इशरत कभी यूँ है कभी वूँ है
तबद्दुल याँ है हर साअ'त कभी यूँ है कभी वूँ है
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
تبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
2
गरेबाँ-चाक हूँ गाहे उड़ाता ख़ाक हूँ गाहे
लिए फिरती मुझे वहशत कभी यूँ है कभी वूँ है
گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہے
لیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
3
अभी हैं वो मिरे हमदम अभी हो जाएँगे दुश्मन
नहीं इक वज़्अ पर सोहबत कभी यूँ है कभी वूँ है
ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمن
نہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
4
जो शक्ल-ए-शीशा गिर्यां हूँ तो मिस्ल-ए-जाम ख़ंदाँ हूँ
यही है याँ की कैफ़िय्यत कभी यूँ है कभी वूँ है
جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوں
یہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
5
किसी वक़्त अश्क हैं जारी किसी वक़्त आह और ज़ारी
ग़रज़ हाल-ए-ग़म-ए-फ़ुर्क़त कभी यूँ है कभी वूँ है
کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاری
غرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
6
कोई दिन है बहार-ए-गुल फिर आख़िर है ख़िज़ाँ बिल्कुल
चमन है मंज़िल-ए-इबरत कभी यूँ है कभी वूँ है
کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکل
چمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
7
'ज़फ़र' इक बात पर दाइम वो होवे किस तरह क़ाइम
जो अपनी फेरता निय्यत कभी यूँ है कभी वूँ है
ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائم
جو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
