غزل
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
یہ غزل باہمی محبت کے سچے جذبے اور یکساں شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خوشی اور غم دونوں کو برابر بانٹنے پر زور دیا گیا ہے۔ شاعر دنیا کی ناپائیداری کے بیچ میسر آنے والی مسرت اور دلی خوشی کے لمحوں کو غنیمت جاننے کی تلقین کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
मोहब्बत चाहिए बाहम हमें भी हो तुम्हें भी हो
ख़ुशी हो इस में या हो ग़म हमें भी हो तुम्हें भी हो
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
خوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
2
ग़नीमत तुम इसे समझो कि इस ख़ुम-ख़ाने में यारो
नसीब इक-दम दिल-ए-ख़ुर्रम हमें भी हो तुम्हें भी हो
غنیمت تم اسے سمجھو کہ اس خم خانہ میں یارو
نصیب اک دم دل خرم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
3
दिलाओ हज़रत-ए-दिल तुम न याद-ए-ख़त-ए-सब्ज़ उस का
कहीं ऐसा न हो ये सम हमें भी हो तुम्हें भी हो
دلاؤ حضرت دل تم نہ یاد خط سبز اس کا
کہیں ایسا نہ ہو یہ سم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
4
हमेशा चाहता है दिल कि मिल कर कीजे मय-नोशी
मयस्सर जाम-ए-मय-ए-जम-जम हमें भी हो तुम्हें भी हो
ہمیشہ چاہتا ہے دل کہ مل کر کیجے مے نوشی
میسر جام مے جم جم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
5
हम अपना इश्क़ चमकाएँ तुम अपना हुस्न चमकाओ
कि हैराँ देख कर आलम हमें भी हो तुम्हें भी हो
ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ
کہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
6
रहे हिर्स-ओ-हवा दाइम अज़ीज़ो साथ जब अपने
न क्यूँकर फ़िक्र-ए-बेश-ओ-कम हमें भी हो तुम्हें भी हो
رہے حرص و ہوا دائم عزیزو ساتھ جب اپنے
نہ کیونکر فکر بیش و کم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
7
'ज़फ़र' से कहता है मजनूँ कहीं दर्द-ए-दिल महज़ूँ
जो ग़म से फ़ुर्सत अब इक दम हमें भी हो तुम्हें भी हो
ظفرؔ سے کہتا ہے مجنوں کہیں درد دل محزوں
جو غم سے فرصت اب اک دم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
