غزل
کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
یہ غزل عشق کے روگ، بے بسی اور جذبۂ تسلیم و رضا کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں دل کے اس درد کا موثر بیان ہے جس کا علاج دنیاوی طبیبوں کے بس میں نہیں اور محبوب کے سوا اس کا کوئی مداوا ممکن نہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
क्या कुछ न किया और हैं क्या कुछ नहीं करते
कुछ करते हैं ऐसा ब-ख़ुदा कुछ नहीं करते
کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
کچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے
2
अपने मरज़-ए-ग़म का हकीम और कोई है
हम और तबीबों की दवा कुछ नहीं करते
اپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہے
ہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے
3
मालूम नहीं हम से हिजाब उन को है कैसा
औरों से तो वो शर्म ओ हया कुछ नहीं करते
معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسا
اوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے
4
गो करते हैं ज़ाहिर को सफ़ा अहल-ए-कुदूरत
पर दिल को नहीं करते सफ़ा कुछ नहीं करते
گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورت
پر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے
5
वो दिलबरी अब तक मिरी कुछ करते हैं लेकिन
तासीर तिरे नाले दिला कुछ नहीं करते
وہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکن
تاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے
6
दिल हम ने दिया था तुझे उम्मीद-ए-वफ़ा पर
तुम हम से नहीं करते वफ़ा कुछ नहीं करते
دل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پر
تم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے
7
करते हैं वो इस तरह 'ज़फ़र' दिल पे जफ़ाएँ
ज़ाहिर में ये जानो कि जफ़ा कुछ नहीं करते
کرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیں
ظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
