“How can I say how the heart was drawn to tresses curved and fair; how did a soul once whole and sound become a captive of despair?”
میں کیا کہوں کہ میرا دل محبوب کی خم دار زلفوں کی طرف کیسے مائل ہو گیا، اور یہ بالکل بھلا چنگا دل اس مصیبت میں کیسے گرفتار ہو گیا۔
شاعر یہاں ایک معصومانہ حیرت کے ساتھ اپنے دل کی حالت بیان کر رہا ہے کہ وہ آخر محبوب کی بل کھاتی زلفوں کا اسیر کیسے بن گیا۔ یہاں زلفِ دوتا کو ایک دلکش پھندے کی مانند دکھایا گیا ہے جو انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ حیران ہے کہ جو دل پہلے بالکل ہنستا بستا اور ہر مصیبت سے محفوظ تھا، اس نے خود آگے بڑھ کر محبت کی اس میٹھی آفت کو گلے کیوں لگا لیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
