غزل

کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے

کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 8 shers· radif: में आवेंगे

یہ غزل محبوب کے عشق میں عاشق کی بے پناہ وارفتگی اور کامل تسلیم و رضا کی عکاس ہے، جہاں وصال کی لگن میں عمر بھر کی مسافت بھی لمحوں میں طے کرنے کا عزم ملتا ہے۔ اس میں راہِ محبت میں فنا ہونے کی لذت کو سراہا گیا ہے، جس میں معشوق کے ہاتھوں زخم کھانا یا قتل ہونا بھی شربت کی طرح شیریں معلوم ہوتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
करेंगे क़स्द हम जिस दम तुम्हारे घर में आवेंगे जो होगी उम्र भर की राह तो दम भर में आवेंगे
کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے جو ہوگی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے
2
अगर हाथों से उस शीरीं-अदा के ज़ब्ह होंगे हम तो शर्बत के से घूँट आब-ए-दम-ए-ख़ंजर में आवेंगे
اگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہم تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے
3
यही गर जोश-ए-गिर्या है तो बह कर साथ अश्कों के हज़ारों पारा-ए-दिल मेरे चश्म-ए-तर में आवेंगे
یہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کے ہزاروں پارۂ دل میرے چشم تر میں آویں گے
4
गर इस क़ैद-ए-बला से अब की छूटेंगे तो फिर हरगिज़ न हम दाम-ए-फ़रेब-ए-शोख़-ए-ग़ारत-गर में आवेंगे
گر اس قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھر ہرگز نہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے
5
न जाते गरचे मर जाते जो हम मालूम कर जाते कि इतना तंग जा कर कूचा-ए-दिलबर में आवेंगे
نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتے کہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے
6
गरेबाँ-चाक लाखों हाथ से उस मेहर-ए-तलअत के ब-रंग-ए-सुब्ह-ए-महशर अरसा-ए-महशर में आवेंगे
گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس مہر طلعت کے برنگ صبح محشر عرصۂ محشر میں آویں گے
7
जो सरगरदानी अपनी तेरे दीवाने दिखाएँगे तो फिर क्या क्या बगूले दश्त के चक्कर में आवेंगे
جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیں گے تو پھر کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے
8
'ज़फ़र' अपना करिश्मा गर दिखाया चश्म-ए-साक़ी ने तमाशे जाम-ए-जम के सब नज़र साग़र में आवेंगे
ظفرؔ اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نے تماشے جام جم کے سب نظر ساغر میں آویں گے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.