جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں فلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں

“Whenever upon the river your graceful shadow lies, you turn a humble fish's scale into a radiant moon.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جب کبھی دریا پر آپ کا سایہ پڑتا ہے، تو آپ مچھلی کے چھلکے کو بھی ایک روشن چاند جیسا بنا دیتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر محبوب کے حسن اور اس کے وجود کے پُراثر اعجاز کا کمال بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب آپ دریا کے کنارے جلوہ گر ہو کر پانی پر اپنا سایہ ڈالتے ہیں، تو آپ کے نور کی بدولت مچھلی کا ایک ادنیٰ سا فلس (چھلکا) بھی روشن چاند بن کر دمکنے لگتا ہے۔ یعنی آپ کا قرب اور نظرِ کرم ایسی کیمیا ہے جو کسی معمولی شے کو بھی لاجواب اور پُرنور بنا دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 16Next →