“Love is an arduous trial, O heart, who ever called it easy? Yet in your sheer naivety, you presumed it to be easy.”
اے دل، عشق تو بہت مشکل ہے، کون کہتا ہے کہ یہ آسان ہے؟ مگر تم نے اپنی نادانی کی وجہ سے اسے آسان سمجھ لیا۔
شاعر یہاں اپنے نادان دل سے ایک مشفقانہ دوست کی طرح ہمکلام ہے اور اسے محبت کی کٹھن حقیقت یاد دلا رہا ہے۔ عشق تو ہمیشہ سے قربانیوں اور آزمائشوں کا راستہ رہا ہے، مگر دل نے اپنی معصوم سادگی میں اسے ایک آسان اور خوشگوار سفر گمان کر لیا۔ یہ شعر دراصل انسان کے اس بھولے پن اور پھر عشق کی گہری تپش سے روبرو ہونے کے احساس کو بڑی خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
