غزل

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 5 shers· radif: में

یہ غزل ہجر کے جان لیوا کرب اور زندگی کی بے کیفی و بیزاری کا پردرد نوحہ ہے۔ شاعر نے دل کے مسلسل درد اور خونِ دل پینے کی اذیت میں ایک خاص سرور اور مٹھاس محسوس کی ہے جو دنیاوی لذتوں سے کہیں بالاتر ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हिज्र के हाथ से अब ख़ाक पड़े जीने में दर्द इक और उठा आह नया सीने में
ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں درد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں
2
ख़ून-ए-दिल पीने से जो कुछ है हलावत हम को ये मज़ा और किसी को नहीं मय पीने में
خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو یہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں
3
दिल को किस शक्ल से अपने न मुसफ़्फ़ा रक्खूँ जल्वा-गर यार की सूरत है इस आईने में
دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں جلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں
4
अश्क ओ लख़्त-ए-जिगर आँखों में नहीं हैं मेरे हैं भरे लाल ओ गुहर इश्क़ के गंजीने में
اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے ہیں بھرے لال و گہر عشق کے گنجینے میں
5
शक्ल-ए-आईना 'ज़फ़र' से तो न रख दिल में ख़याल कुछ मज़ा भी है भला जान मिरी लेने में
شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیال کچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں | Sukhan AI