غزل

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے

ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
بہادر شاہ ظفر· Ghazal· 7 shers· radif: के लिए

یہ غزل انسان کو حرص، ہوا اور غرور ترک کر کے عاجزی اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ ساتھ ہی، اس میں عشق کی گہرائی اور محبوب کی خاطر خود کو فنا کر دینے کے دلی جذبے کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हवा में फिरते हो क्या हिर्स और हवा के लिए ग़ुरूर छोड़ दो ऐ ग़ाफ़िलो ख़ुदा के लिए
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے غرور چھوڑ دو اے غافلو خدا کے لیے
2
गिरा दिया है हमें किस ने चाह-ए-उल्फ़त में हम आप डूबे किसी अपने आश्ना के लिए
گرا دیا ہے ہمیں کس نے چاہ الفت میں ہم آپ ڈوبے کسی اپنے آشنا کے لیے
3
जहाँ में चाहिए ऐवान ओ क़स्र शाहों को ये एक गुम्बद-ए-गर्दूं है बस गदा के लिए
جہاں میں چاہیئے ایوان و قصر شاہوں کو یہ ایک گنبد گردوں ہے بس گدا کے لیے
4
वो आईना है कि जिस को है हाजत-ए-सीमाब इक इज़्तिराब है काफ़ी दिल-ए-सफ़ा के लिए
وہ آئینہ ہے کہ جس کو ہے حاجت سیماب اک اضطراب ہے کافی دل صفا کے لیے
5
तपिश से दिल का हो क्या जाने सीने में क्या हाल जो तेरे तीर का रौज़न न हो हवा के लिए
تپش سے دل کا ہو کیا جانے سینے میں کیا حال جو تیرے تیر کا روزن نہ ہو ہوا کے لیے
6
तबीब-ए-इश्क़ की दुक्काँ में ढूँडते फिरते ये दर्दमंद-ए-मोहब्बत तिरी दवा के लिए
طبیب عشق کی دکاں میں ڈھونڈتے پھرتے یہ دردمند محبت تری دوا کے لیے
7
जो हाथ आए 'ज़फ़र' ख़ाक-पा-ए-'फ़ख़रूद्दीन' तो मैं रखूँ उसे आँखों के तूतिया के लिए
جو ہاتھ آئے ظفرؔ خاک پائے فخراؔلدین تو میں رکھوں اسے آنکھوں کے توتیا کے لیے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.