غزل
وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
یہ غزل ایک ایسے محبوب سے وصال کی آرزو کا بیان کرتی ہے جس سے نہ کوئی ملاقات ہے اور نہ شناسائی۔ بالآخر شاعر تمام امیدیں منقطع ہو جانے کے بعد ہی دل کی یکسوئی اور ایک عجیب سکون پاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
वस्ल का उस के दिल-ए-ज़ार तमन्नाई है
न मुलाक़ात है जिस से न शनासाई है
وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے
2
क़त्अ उम्मीद ने दिल कर दिए यकसू सद शुक्र
शक्ल मुद्दत में ये अल्लाह ने दिखलाई है
قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکر
شکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے
3
क़ूव्वत-ए-दस्त-ए-ख़ुदाई है शकेबाई में
वक़्त जब आ के पड़ा है यही काम आई है
قوت دست خدائی ہے شکیبائی میں
وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے
4
डर नहीं ग़ैर का जो कुछ है सो अपना डर है
हम ने जब खाई है अपने ही से ज़क खाई है
ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے
ہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے
5
नशे में चूर न हों झाँझ में मख़्मूर न हों
पंद ये पीर-ए-ख़राबात ने फ़रमाई है
نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوں
پند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے
6
नज़र आती नहीं अब दिल में तमन्ना कोई
बाद मुद्दत के तमन्ना मिरी बर आई है
نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئی
بعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے
7
बात सच्ची कही और उँगलियाँ उट्ठीं सब की
सच में 'हाली' कोई रुस्वाई सी रुस्वाई है
بات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کی
سچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
