غزل
واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
اس غزل میں شاعر اپنے گناہوں اور دل میں باقی رہ جانے والی حرص کے باعث بارگاہِ محبوب میں حاضر ہونے سے شدید ندامت اور جھجک کا اظہار کرتا ہے۔ یہ انسانی کمزوریوں، باطنی کشمکش اور بے فیض پشیمانی کا ایک پُراثر بیانیہ ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
वाँ अगर जाएँ तो ले कर जाएँ क्या
मुँह उसे हम जा के ये दिखलाएँ क्या
واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا
منہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا
2
दिल में है बाक़ी वही हिर्स-ए-गुनाह
फिर किए से अपने हम पछताएँ क्या
دل میں ہے باقی وہی حرص گناہ
پھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
3
आओ लें उस को हमीं जा कर मना
उस की बे-परवाइयों पर जाएँ क्या
آؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منا
اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
4
दिल को मस्जिद से न मंदिर से है उन्स
ऐसे वहशी को कहीं बहलाएँ क्या
دل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انس
ایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا
5
जानता दुनिया को है इक खेल तू
खेल क़ुदरत के तुझे दिखलाएँ क्या
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
6
उम्र की मंज़िल तो जूँ तूँ कट गई
मरहले अब देखिए पेश आएँ क्या
عمر کی منزل تو جوں توں کٹ گئی
مرحلے اب دیکھیے پیش آئیں کیا
7
दिल को सब बातों की है नासेह ख़बर
समझे समझाए को बस समझाएँ क्या
دل کو سب باتوں کی ہے ناصح خبر
سمجھے سمجھائے کو بس سمجھائیں کیا
8
मान लीजे शैख़ जो दा'वा करे
इक बुज़ुर्ग-ए-दीं को हम झुटलाएँ क्या
مان لیجے شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
9
हो चुके 'हाली' ग़ज़ल-ख़्वानी के दिन
रागनी बे-वक़्त की अब गाएँ क्या
ہو چکے حالیؔ غزل خوانی کے دن
راگنی بے وقت کی اب گائیں کیا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
