غزل
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
یہ غزل محبوب کے حسن اور دلکشی کے روبرو مکمل سپردگی اور وارفتگی کے جذبے کی عکاس ہے۔ اس میں شاعر نے انسانی بے بسی اور عشق کے سفر میں اپنی ناتوانی کے اعتراف سے پیدا ہونے والی گہری فکری بصیرت کو پرتاثیر انداز میں پیش کیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
मैं तो मैं ग़ैर को मरने से अब इंकार नहीं
इक क़यामत है तिरे हाथ में तलवार नहीं
میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
اک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں
2
कुछ पता मंज़िल-ए-मक़्सूद का पाया हम ने
जब ये जाना कि हमें ताक़त-ए-रफ़्तार नहीं
کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے
جب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں
3
चश्म-ए-बद-दूर बहुत फिरते हैं अग़्यार के साथ
ग़ैरत-ए-इश्क़ से अब तक वो ख़बर-दार नहीं
چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ
غیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں
4
हो चुका नाज़ उठाने में है गो काम तमाम
लिल्लाहिल-हम्द कि बाहम कोई तकरार नहीं
ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام
للہ الحمد کہ باہم کوئی تکرار نہیں
5
मुद्दतों रश्क ने अग़्यार से मिलने न दिया
दिल ने आख़िर ये दिया हुक्म कि कुछ आर नहीं
مدتوں رشک نے اغیار سے ملنے نہ دیا
دل نے آخر یہ دیا حکم کہ کچھ عار نہیں
6
अस्ल मक़्सूद का हर चीज़ में मिलता है पता
वर्ना हम और किसी शय के तलबगार नहीं
اصل مقصود کا ہر چیز میں ملتا ہے پتا
ورنہ ہم اور کسی شے کے طلب گار نہیں
7
बात जो दिल में छुपाते नहीं बनती 'हाली'
सख़्त मुश्किल है कि वो क़ाबिल-ए-इज़हार नहीं
بات جو دل میں چھپاتے نہیں بنتی حالیؔ
سخت مشکل ہے کہ وہ قابل اظہار نہیں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
