غزل

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں
الطاف حسین حالی· Ghazal· 7 shers· radif: में

یہ غزل دنیا میں کسی مخلص ہمراز اور محرم کے نہ ملنے کے گہرے دکھ اور تنہائی کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر قید و بند کی اذیت اور بے بسی کے عالم میں اپنے دل کی بات اپنی زبان میں کہنے کی شدید تڑپ اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
कोई महरम नहीं मिलता जहाँ में मुझे कहना है कुछ अपनी ज़बाँ में
کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں
2
क़फ़स में जी नहीं लगता किसी तरह लगा दो आग कोई आशियाँ में
قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرح لگا دو آگ کوئی آشیاں میں
3
कोई दिन बुल-हवस भी शाद हो लें धरा क्या है इशारात-ए-निहाँ में
کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیں دھرا کیا ہے اشارات نہاں میں
4
कहीं अंजाम आ पहुँचा वफ़ा का घुला जाता हूँ अब के इम्तिहाँ में
کہیں انجام آ پہنچا وفا کا گھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں
5
नया है लीजिए जब नाम उस का बहुत वुसअ'त है मेरी दास्ताँ में
نیا ہے لیجئے جب نام اس کا بہت وسعت ہے میری داستاں میں
6
दिल-ए-पुर-दर्द से कुछ काम लूँगा अगर फ़ुर्सत मिली मुझ को जहाँ में
دل پر درد سے کچھ کام لوں گا اگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں
7
बहुत जी ख़ुश हुआ 'हाली' से मिल कर अभी कुछ लोग बाक़ी हैं जहाँ में
بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.