“Hali rests content with the hope of Paradise—if only someone would ask: what have you done to earn it?”
حالی جنت ملنے کی امید پر ہی خوش ہیں، مگر کوئی ان سے یہ تو پوچھے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کیا عمل کیا ہے۔
حالیؔ نے اس شعر میں بڑے خوبصورت اور طنزیہ انداز میں اپنی اور انسان کی بے عمل امیدوں کی تصویر کھینچی ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ ہم جنت کی آرزو باندھ کر خوش تو بہت ہیں، مگر کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اس کے لیے کچھ کیا بھی ہے یا نہیں۔ یہ شعر قاری کو نرمی کے ساتھ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
