غزل

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے
الطاف حسین حالی· Ghazal· 9 shers

یہ غزل محبوب کی بے رخی اور تغافل سے پیدا ہونے والے دلی کرب اور مایوسی کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس میں پیاس اور بیقراری کی ایسی انتہا دکھائی گئی ہے جہاں عاشق مے نہ ملنے پر زہر کا پیالہ پینے کے لیے بھی تیار نظر آتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
कह दो कोई साक़ी से कि हम मरते हैं प्यासे गर मय नहीं दे ज़हर ही का जाम बला से
کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے گر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے
2
जो कुछ है सो है उस के तग़ाफ़ुल की शिकायत क़ासिद से है तकरार न झगड़ा है सबा से
جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایت قاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے
3
दल्लाला ने उम्मीद दिलाई तो है लेकिन देते नहीं कुछ दिल को तसल्ली ये दिलासे
دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکن دیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے
4
है वस्ल तो तक़दीर के हाथ ऐ शह-ए-ख़ूबाँ याँ हैं तो फ़क़त तेरी मोहब्बत के हैं प्यासे
ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباں یاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں پیاسے
5
प्यासे तिरे सर-गश्ता हैं जो राह-ए-तलब में होंटों को वो करते नहीं तर आब-ए-बक़ा से
پیاسے ترے سرگشتہ ہیں جو راہ طلب میں ہونٹوں کو وہ کرتے نہیں تر آب بقا سے
6
दर गुज़रे दवा से तो भरोसे पे दुआ के दर गुज़रें दुआ से भी दुआ है ये ख़ुदा से
در گزرے دوا سے تو بھروسے پہ دعا کے در گزریں دعا سے بھی دعا ہے یہ خدا سے
7
इक दर्द हो बस आठ पहर दिल में कि जिस को तख़फ़ीफ़ दवा से हो न तस्कीन दुआ से
اک درد ہو بس آٹھ پہر دل میں کہ جس کو تخفیف دوا سے ہو نہ تسکین دعا سے
8
'हाली' दिल-ए-इंसाँ में है गुम दौलत-ए-कौनैन शर्मिंदा हों क्यूँ ग़ैर के एहसान-ओ-अता से
حالیؔ دل انساں میں ہے گم دولت کونین شرمندہ ہوں کیوں غیر کے احسان و عطا سے
9
जब वक़्त पड़े दीजिए दस्तक दर-ए-दिल पर झुकिए फ़ुक़रा से न झमकिये उमरा से
جب وقت پڑے دیجیے دستک در دل پر جھکئے فقرا سے نہ جھمکیے امرا سے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.