غزل

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
الطاف حسین حالی· Ghazal· 12 shers· radif: हुआ चाहता है

یہ غزل عشق کے اس پرشور جنون اور وارفتگی کی عکاسی کرتی ہے جہاں عاشق دنیا چھوڑ کر دشت نوردی کے لیے آمادہ نظر آتا ہے۔ محبوب کے تصور میں بہتے بے پناہ آنسوؤں اور ہجر کی شدید بے قراری کو اس میں انتہائی دل کش اور درد مندانہ انداز میں سمیٹا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
जुनूँ कार-फ़रमा हुआ चाहता है क़दम दश्त पैमा हुआ चाहता है
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے قدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے
2
दम-ए-गिर्या किस का तसव्वुर है दिल में कि अश्क अश्क दरिया हुआ चाहता है
دم گریہ کس کا تصور ہے دل میں کہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے
3
ख़त आने लगे शिकवा-आमेज़ उन के मिलाप उन से गोया हुआ चाहता है
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے ملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے
4
बहुत काम लेने थे जिस दिल से हम को वो सर्फ़-ए-तमन्ना हुआ चाहता है
بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو وہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے
5
अभी लेने पाए नहीं दम जहाँ में अजल का तक़ाज़ा हुआ चाहता है
ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے
6
मुझे कल के वादे पे करते हैं रुख़्सत कोई वा'दा पूरा हुआ चाहता है
مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصت کوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے
7
फ़ुज़ूँ तर है कुछ इन दिनों ज़ौक़-ए-इस्याँ दर-ए-रहमत अब वा हुआ चाहता है
فزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاں در رحمت اب وا ہوا چاہتا ہے
8
क़लक़ गर यही है तो राज़-ए-निहानी कोई दिन में रुस्वा हुआ चाहता है
قلق گر یہی ہے تو راز نہانی کوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے
9
वफ़ा शर्त-ए-उल्फ़त है लेकिन कहाँ तक दिल अपना भी तुझ सा हुआ चाहता है
وفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟ دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے
10
बहुत हज़ उठाता है दिल तुझ से मिल कर क़लक़ देखिए क्या हुआ चाहता है
بہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کر قلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے
11
ग़म-ए-रश्क को तल्ख़ समझे थे हमदम सो वो भी गवारा हुआ चाहता है
غم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدم سو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے
12
बहुत चैन से दिन गुज़रते हैं 'हाली' कोई फ़ित्ना बरपा हुआ चाहता है
بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔ کوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.