“Patience till the Day of Doom this longing heart must keep; when the beloved shall be met remains yet to be seen.”
یہاں دل کو قیامت تک صبر و شکیبائی کی ضرورت ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ محبوب سے ملنا کب نصیب ہوتا ہے۔
اس شعر میں شاعر نے انتظار کی طوالت اور دل کے صبر کو کمال خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب سے ملنے کی گھڑی اتنی دور اور غیر یقینی ہے کہ اس کی آس باندھے رکھنے کے لیے دل کو قیامت تک حوصلہ رکھنا پڑے گا۔ یہ مایوسی سے زیادہ عشق کی وہ میٹھی بے بسی ہے، جس میں محبوب کا شکوہ بھی چھپا ہے اور ملن کی ایک کبھی نہ ختم ہونے والی امید بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
