“You will have to offer excuses for your cruelty, should I ever begin to recount the sorrows of my heart.”
اگر ہم اپنے دل کا درد سنانے لگیں تو آپ کو اپنی بے وفائی اور ظلم کے لیے عذر پیش کرنے پڑیں گے۔
اس شعر میں شاعر محبوب سے بڑے دھیمے اور پروقار انداز میں شکوہ کناں ہیں کہ ہماری خاموشی کو بے بسی نہ سمجھا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو لب اس لیے سی رکھے ہیں تاکہ آپ کا بھرم قائم رہے، ورنہ اگر ہم نے اپنے دل کے گھاؤ اور آپ کے ستم بیان کرنا شروع کر دیے تو آپ کو اپنے کیے پر شرمندہ ہو کر بہانے تراشنے پڑیں گے۔ یہاں ضبط اور محبت کا وہ خوبصورت پہلو نمایاں ہے جہاں عاشق کی خاموشی محبوب کو رسوائی سے بچانے کا سلیقہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
