حق وفا کے جو ہم جتانے لگے آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے

“When I began to claim fidelity's rightful due, you murmured a fleeting word and gently smiled.”

— الطاف حسین حالی
معنی

جب ہم اپنی وفا کا حق جتانے لگے، تو آپ کچھ کہہ کر مسکرانے لگے۔

تشریح

یہ شعر عشق کی اس میٹھی بے بسی کی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جہاں عاشق اپنے سچے جذبات اور وفاداری کا حق مانگنے نکلتا ہے۔ جب وہ اپنی وفا کا حساب چاہتا ہے، تو محبوب کسی سنجیدہ اعتراف کے بجائے بات ٹال کر بس دھیمے سے مسکرا دیتا ہے۔ محبوب کی یہ دلفریب مسکراہٹ عاشق کے ہر شکوے اور تقاضے کو بے اثر کر کے اُسے لاجواب کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →