એક મુરખને એવી ટે વ
પથ્થર એટલા પૂજે દે વ;
“One fool developed such a way, Each stone he found, a god to pray.”
— اکھا بھگت
معنی
ایک مورکھ کو ایسی عادت ہو گئی ہے کہ وہ جتنے پتھر دیکھتا ہے، ان سبھی کو دیوتا مان کر پوجتا ہے۔
تشریح
یہ دوہا ایک ایسے شخص کی تصویر پیش کرتا ہے جس کی عادت ہے کہ وہ جہاں بھی پتھر دیکھتا ہے، اسے ہی دیوتا مان کر پوجنے لگتا ہے۔ یہ اندھے اعتقاد یا بغیر سوچے سمجھے کی گئی عبادت پر ایک نرم طنز ہے۔ شاعر شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سچی عقیدت صرف ظاہری رسومات سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے، اور ہمیں ہر چیز میں بغیر سمجھے دیوتائی نہیں تلاش کرنی چاہیے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
