“When reality is known, detachment does arise;The hidden veil no longer has a hold.”
جب چیزوں کی حقیقت معلوم ہوتی ہے تو بیراگ (لاتعلقی) پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت کوئی بھی چھپا ہوا پردہ اپنا اثر نہیں ڈال پاتا۔
یہ دوہا ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم حقیقت کو پہچان لیتے ہیں تو دل میں ایک قسم کا بیراگ (دنیا سے بے تعلقی) پیدا ہو جاتا ہے۔ 'حقیقت کو جاننا' یہاں صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ گہری بصیرت حاصل کرنا ہے۔ جو 'پوشیدہ پردہ' یہاں بیان کیا گیا ہے، وہ ہماری جہالت اور فریب کا استعارہ ہے جو ہمیں حقیقت دیکھنے سے روکتا ہے۔ جب سچائی کا نور آتا ہے تو یہ پردہ اپنی گرفت کھو دیتا ہے اور ہم فریب کے بندھنوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
