મૂળ સ્વરૂપે જે કોઇ થયો
તેને ભણ્યાનો સ્વભાવ ગયો;
“Whoever reached their primal state, their core, No longer felt the urge to learn anymore.”
— اکھا بھگت
معنی
جو کوئی اپنی اصلی حالت کو حاصل کر لیتا ہے، اس کی سیکھنے کی فطرت ختم ہو جاتی ہے۔
تشریح
یہ دوہا ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ حقیقی دانائی بیرونی کتابوں یا تعلیم میں نہیں بلکہ اپنی اصلی حالت، اپنی بنیادی فطرت کو پہچاننے میں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اندرونی سچ اور اپنی حقیقی ذات کو پا لیتا ہے، تو اس کی بیرونی علم حاصل کرنے کی پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس نے اپنے اندر ہی علم کا ایسا چشمہ ڈھونڈ لیا ہو، جہاں اسے اب مزید کسی بیرونی معلومات کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اسے پرم ستیہ کا تجربہ ہو جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
