“Whoever reached their primal state, their core, No longer felt the urge to learn anymore.”
جو کوئی اپنی اصلی حالت کو حاصل کر لیتا ہے، اس کی سیکھنے کی فطرت ختم ہو جاتی ہے۔
یہ دوہا ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ حقیقی دانائی بیرونی کتابوں یا تعلیم میں نہیں بلکہ اپنی اصلی حالت، اپنی بنیادی فطرت کو پہچاننے میں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اندرونی سچ اور اپنی حقیقی ذات کو پا لیتا ہے، تو اس کی بیرونی علم حاصل کرنے کی پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس نے اپنے اندر ہی علم کا ایسا چشمہ ڈھونڈ لیا ہو، جہاں اسے اب مزید کسی بیرونی معلومات کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اسے پرم ستیہ کا تجربہ ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
