“Past and future, and the silent chant, If Akho is not, what foundation can it grant?”
یہ شعر سوال کرتا ہے کہ ماضی، مستقبل اور خاموش ذکر (اجپا جاپ) کی کیا بنیاد ہے اگر 'اکو' (سنت شاعر اکو یا حقیقت کا تصور) موجود نہیں ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس بنیادی سمجھ کے بغیر، ہر چیز بے بنیاد ہے۔
اخو کا یہ دوہا ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ایک میٹھی دعوت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اکثر ماضی اور مستقبل کی فکروں میں گم رہتے ہیں، اور یہاں تک کہ اپنی خاموش روحانی عبادات ('اجپاجپ' یا خاموش ذکر) میں بھی مشغول رہتے ہیں، لیکن اگر ہمیں اپنی حقیقی پہچان نہیں ہے – وہ گہری بصیرت جس کے بارے میں اخو نے بہت لکھا ہے – تو ان تمام کوششوں کی بنیاد کیا ہے؟ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے روحانی سفر کی کوئی حقیقی بنیاد ہے، یا ہم صرف رسمی کارروائی کر رہے ہیں۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
