“For Hari he plans and molds, From his own self, he retreats.”
وہ ہری کے لیے منصوبے بناتا اور سانچے میں ڈھالتا ہے، مگر اپنے اصلی وجود سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
یہ دوہا ایک بہت ہی گہری بات کہتا ہے۔ ہم اکثر خدا (ہری) کے لیے بیرونی عقیدت کے سانچے تراشنے میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں، جیسے بت بنانا یا منصوبے تیار کرنا، کہ ہم لاشعوری طور پر اپنی حقیقی ذات سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ہم خدا کو باہر تلاش کرتے ہیں، تو اپنے اندر کا سفر، اپنی ذات کو سمجھنے کا سفر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کبھی کبھی بیرونی عبادت کے چکر میں ہم خود کو ہی بھول جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
