“By nature, the bed itself speaks (to the mind), O Akha, do not hold guru-hood in your heart.”
سیج (بستر) فطرت سے ہی خود بات کرتی ہے، اے اکھا، اپنے دل میں گرو ہونے کا بھاؤ مت رکھو۔
یہ دوہا ہمیں عاجزی اور خود احتسابی کی خوبصورت یاد دلاتا ہے۔ یہاں 'سیج' (بستر) ہمارے ضمیر اور ان پرسکون لمحات کا ایک پیارا استعارہ ہے جب ہم اپنے خیالات کے ساتھ تنہا ہوتے ہیں۔ انہی ذاتی لمحوں میں ہمارے اعمال اور اندرونی حکمت واقعی ہم سے 'بات' کرتے ہیں، اپنے بارے میں سچائیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا، اکھا کو نرمی سے نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دل میں کسی قسم کی برتری یا 'گرو پن' کا احساس نہ رکھیں، کیونکہ سچی دانائی اس اندرونی آواز کو سننے سے آتی ہے، نہ کہ بیرونی اختیار کا دعویٰ کرنے سے۔
آڈیو
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
