“How would he care for another's plight,Who daily at his own home creates a fight?”
جو شخص اپنے ہی گھر میں روزانہ جھگڑے اور پریشانیاں کھڑی کرتا ہو، وہ دوسروں کے دکھ درد کی پرواہ کیسے کرے گا؟
یہ دوہا انسانی فطرت پر ایک گہری، قدرے افسوسناک مگر بہت سچی تبصرہ پیش کرتا ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر کشی کرتا ہے جس کا اپنا گھر ہی روزانہ کی لڑائی جھگڑوں یا اندرونی کشمکش کا میدان بنا ہوا ہو۔ شاعر بڑی ذہانت سے کہتے ہیں کہ جو انسان اپنی ہی روزمرہ کی پریشانیوں اور جھگڑوں میں اتنا گھرا ہوا ہو، اس کے پاس دوسروں کی مصیبتوں کے لیے ہمدردی یا فکر کرنے کی ذہنی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اکثر، ہماری دوسروں کے لیے ہمدردی اتنی ہی بڑھتی ہے جتنی ہماری اپنی اندرونی سکون ہمیں اجازت دیتا ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
