“Why have you become a guru, what practice do you claim?The affliction of mastership has clung to your name.”
تم گرو بن کر کیوں بیٹھے ہو، کس سادھنا کا دعویٰ کرتے ہو؟ تمہیں آقائی کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔
یہ شعر کتنی گہری بات کہتا ہے، ہے نا؟ یہ بڑی خوبی سے سوال اٹھاتا ہے کہ بھلا کوئی شخص کس سادھنا کی بنیاد پر خود کو گرو کہتا ہے، جیسے ان کے روحانی عمل پر شبہ ظاہر کر رہا ہو۔ اور اصل نکتہ تو دوسری لائن میں ہے، جہاں یہ بہت خوبصورتی سے ایک طاقتور استعارہ استعمال کرتا ہے: 'ماسٹرشپ' یا روحانی گرو ہونے کے دعوے کو ہی ایک 'عارضہ' یا بیماری قرار دیتا ہے جو کسی انسان سے چمٹ گئی ہو۔ یہ ایک نرم لیکن ٹھوس یاد دہانی ہے کہ سچی روحانی حکمت اکثر القابات سے دور رہتی ہے، کیونکہ انہیں حاصل کرنے کی انا ہی ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
