غزل

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 5 shers· radif: ली

یہ غزل سماجی روایات پر ہلکے پھلکے طنز اور شوخ رومانوی جذبات کا ایک دلکش اور جدید امتزاج ہے۔ شاعر نے شگفتہ و ظریفانہ انداز میں انسانی رویوں، باہمی کشش اور نظروں کے تبادلے کی گرمائش کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
शेख़ ने नाक़ूस के सुर में जो ख़ुद ही तान ली फिर तो यारों ने भजन गाने की खुल कर ठान ली
شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی پھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی
2
मुद्दतों क़ाइम रहेंगी अब दिलों में गर्मियाँ मैं ने फोटो ले लिया उस ने नज़र पहचान ली
مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاں میں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی
3
रो रहे हैं दोस्त मेरी लाश पर बे-इख़्तियार ये नहीं दरयाफ़्त करते किस ने इस की जान ली
رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیار یہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی
4
मैं तो इंजन की गले-बाज़ी का क़ाइल हो गया रह गए नग़्मे हुदी-ख़्वानों के ऐसी तान ली
میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیا رہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی
5
हज़रत-ए-'अकबर' के इस्तिक़्लाल का हूँ मो'तरिफ़ ता-ब-मर्ग उस पर रहे क़ाइम जो दिल में ठान ली
حضرت اکبرؔ کے استقلال کا ہوں معترف تابہ مرگ اس پر رہے قائم جو دل میں ٹھان لی
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.