غزل
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ غزل انسانی وجود کی ناپائیداری، شدید خوف اور قلبی اضطراب کی دل سوز عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے اپنی ہستی کو پانی کے بلبلے سے تشبیہ دی ہے جو ابھرتے ہی مٹ جاتا ہے، اور اس بے بسی کا اظہار کیا ہے جہاں ہر سانس بھی خوف اور رنج کا سبب بنتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
साँस लेते हुए भी डरता हूँ
ये न समझें कि आह करता हूँ
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
2
बहर-ए-हस्ती में हूँ मिसाल-ए-हबाब
मिट ही जाता हूँ जब उभरता हूँ
بحر ہستی میں ہوں مثال حباب
مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
3
इतनी आज़ादी भी ग़नीमत है
साँस लेता हूँ बात करता हूँ
اتنی آزادی بھی غنیمت ہے
سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں
4
शैख़ साहब ख़ुदा से डरते हों
मैं तो अंग्रेज़ों ही से डरता हूँ
شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں
میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں
5
आप क्या पूछते हैं मेरा मिज़ाज
शुक्र अल्लाह का है मरता हूँ
آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج
شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں
6
ये बड़ा ऐब मुझ में है 'अकबर'
दिल में जो आए कह गुज़रता हूँ
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ
دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
