غزل
پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
اس غزل میں محبوب کے بدلتے ہوئے مزاج اور اس کی بے وفائی و عدم مروت کا شکوہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی شاعر اپنی بے نیازی اور رندانہ طبیعت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دوستوں کی محفل میں جدائی کی رات بھی ہنسی خوشی کٹ جائے گی۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
फिर गई आप की दो दिन में तबीअ'त कैसी
ये वफ़ा कैसी थी साहब ये मुरव्वत कैसी
پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی
2
दोस्त अहबाब से हँस बोल के कट जाएगी रात
रिंद-ए-आज़ाद हैं हम को शब-ए-फ़ुर्क़त कैसी
دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی رات
رند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی
3
जिस हसीं से हुई उल्फ़त वही माशूक़ अपना
इश्क़ किस चीज़ को कहते हैं तबीअ'त कैसी
جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا
عشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی
4
है जो क़िस्मत में वही होगा न कुछ कम न सिवा
आरज़ू कहते हैं किस चीज़ को हसरत कैसी
ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سوا
آرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی
5
हाल खुलता नहीं कुछ दिल के धड़कने का मुझे
आज रह रह के भर आती है तबीअ'त कैसी
حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے
آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی
6
कूचा-ए-यार में जाता तो नज़ारा करता
क़ैस आवारा है जंगल में ये वहशत कैसी
کوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتا
قیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
