غزل

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے

نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 6 shers· radif: होते

یہ غزل ضبطِ غم کی گہری تاثیر اور پوشیدہ آنسوؤں کی بے بہا قدر و قیمت کو بیان کرتی ہے جنہیں صدف کے موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ظاہری پارسائی پر لطیف طنز کرتے ہوئے حقیقی عشقِ الٰہی میں دردمندی اور کشادہ دلی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
न बहते अश्क तो तासीर में सिवा होते सदफ़ में रहते ये मोती तो बे-बहा होते
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے صدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے
2
मुझ ऐसे रिंद से रखते ज़रूर ही उल्फ़त जनाब-ए-शैख़ अगर आशिक़-ए-ख़ुदा होते
مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفت جناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے
3
गुनाहगारों ने देखा जमाल-ए-रहमत को कहाँ नसीब ये होता जो बे-ख़ता होते
گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کو کہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے
4
जनाब-ए-हज़रत-ए-नासेह का वाह क्या कहना जो एक बात न होती तो औलिया होते
جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہنا جو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے
5
मज़ाक़-ए-इश्क़ नहीं शेख़ में ये है अफ़्सोस ये चाशनी भी जो होती तो क्या से क्या होते
مذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوس یہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے
6
महल्ल-ए-शुक्र हैं 'अकबर' ये दरफ़शाँ नज़्में हर इक ज़बाँ को ये मोती नहीं अता होते
محل شکر ہیں اکبرؔ یہ درفشاں نظمیں ہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.