غزل
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
یہ غزل انتہائی بے بسی، حسرتوں کے خون اور مقدر کی ستم ظریفی کی درد ناک عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے دکھ اور رنج و الم کی اس شدت کو بیان کرتا ہے جہاں اس کی زبوں حالی دیکھ کر گھائل تڑپتے ہوئے بھی تسلی پا جاتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
जहाँ में हाल मिरा इस क़दर ज़बून हुआ
कि मुझ को देख के बिस्मिल को भी सुकून हुआ
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
کہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا
2
ग़रीब दिल ने बहुत आरज़ूएँ पैदा कीं
मगर नसीब का लिक्खा कि सब का ख़ून हुआ
غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں
مگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا
3
वो अपने हुस्न से वाक़िफ़ मैं अपनी अक़्ल से सैर
उन्हों ने होश सँभाला मुझे जुनून हुआ
وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر
انہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا
4
उम्मीद-ए-चश्म-ए-मुरव्वत कहाँ रही बाक़ी
ज़रीया बातों का जब सिर्फ़ टेलीफ़ोन हुआ
امید چشم مروت کہاں رہی باقی
ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا
5
निगाह-ए-गर्म क्रिसमस में भी रही हम पर
हमारे हक़ में दिसम्बर भी माह-ए-जून हुआ
نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر
ہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
