“When despair took hold, sighs ceased to escape the breast; the eyes have turned dry and cold, and the heart has abandoned its wild unrest.”
جب مکمل مایوسی چھا گئی تو سینے سے آہیں نکلنا بند ہو گئیں۔ اب آنکھیں بھی خشک ہو چکی ہیں اور دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا ہے۔
یہ شعر مایوسی اور غم کی اس آخری حد کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان تڑپنے اور فریاد کرنے کی حس بھی کھو بیٹھتا ہے۔ جب تک دل میں امید کی کوئی رمق باقی ہو، آنکھیں روتی ہیں اور سینے سے آہیں نکلتی ہیں، مگر مکمل یاس دل کو اندر سے بے حس اور ویران کر دیتی ہے۔ آنکھوں کا خشک ہو جانا اور دل کا مچلنا چھوڑ دینا دراصل اس خاموش ماتم کا استعارہ ہے جہاں ضبط اب مجبوری نہیں بلکہ لاحاصل تھکن بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
